Monday, May 4, 2020

کرونا بھی غیرت کے نام پر قتل نہ روک سکا۔

پچھلے کئی مہینوں سے دنیا میں زندگی کے تقریباً تمام تر معمولات بندش کا شکار ہیں۔ جس کی وجہ سے لوگوں کو بہت سارے مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے لیکن دوسری طرف ماہرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کرونا (کورونا) وائرس کی وجہ سے کیے گئے لاک ڈاؤن کے اچھے اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ماحولیاتی آلودگی میں مسلسل کمی آرہی ہے  جبکہ مجموعی طور پر انسانوں کے مابین تنازعات اور تشدد میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ایسے اثرات کے بارے میں جان کر خوشی ہوتی ہے 
کیونکہ یہ ہم سب انسانوں کے لیے مفید ہیں۔
 مارچ 2014  کو لی گئی اس تصویر میں اسلام آباد میں انسانی حقوق کے حوالے سے سرگرم کارکن غیرت کے نام پر خواتین کے قتل کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اے ایف پی

تاہم زمینی حقائق کے مطابق خواتین کے خلاف جرائم اور تشدد میں کوئی کمی نہیں آئی ہے بلکہ اس حوالے سے صورت حال مزید تشویش ناک ہو رہی ہے۔ گذشتہ ایک مہینے میں سوات میں چھ خواتین کو اپنے ہی گھر کے افراد نے غیرت کے نام پر یا گھریلو ناچاقیوں کی بنا پر قتل کیا ہے۔ یہ چھ کیسز  مختلف مقامی اور قومی اخبارات میں رپورٹ ہوچکے ہیں لیکن اس حوالے سے متعلقہ اداروں کی طرف سے کوئی تسلی بخش اقدامات نہیں اٹھائے گئے تاکہ نہ صرف ان بے گناہ خواتین کو انصاف مل سکے بلکہ آئندہ کے لیے بھی اس طرح کے جرائم کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔

سوات، بریکوٹ کی پولیس کے مطابق 12 مارچ کو ایک مقامی شخص نے گاؤں ناوگے میں اپنی بیوی کو قتل کیا مگر تھانے میں مقدمہ درج کروایا کہ اس کی بیوی پر نامعلوم افراد نے حملہ کرکے اسے قتل کردیا۔ بریکوٹ تحصیل تھانے کے ڈی ایس پی نے کیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم نے مقتولہ کے شوہر کی رپورٹ پر اندھا یقین کرنے کی بجائے اپنی انکوائری کی، جس کے دوران ہمیں پتہ چلا کہ مقتولہ کے تین بیٹے اور شوہر مبینہ طور پر خاتون کے قتل میں ملوث پائے گئے ہیں، جس کے بعد گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

اسی طرح 4 اپریل کو  سوات میں کوکارئی تھانے کی پولیس کے مطابق زبانی تلخ کلامی پر انور شاہد نامی شخص نے اپنی بیوی کو گولی مار کر قتل کردیا۔ پولیس نے رپورٹ درج کرنے کے بعد ملزم کی تلاش شروع کردی اور 9 اپریل کو اسے گرفتار کرلیا۔

17 اپریل کو سوات کے ایک اور گاؤں چارباغ میں شاکر نامی شخص  نے اپنی طلاق یافتہ بیوی کو قتل کردیا کیونکہ مقتولہ دوسری شادی کرنا چاہتی تھیں۔ چارباغ پولیس تھانے کے ایس ایچ او کے مطابق رپورٹ درج کرنے کے بعد ملزم کی تلاش جاری ہے۔

 21اپریل کو سوات بریکوٹ کے علاقے شموزئی میں سلیمان نامی شخص نے اپنی بیوی اور سالی کو مبینہ طور پر قتل کردیا، جس پر پولیس نے رپورٹ درج کرکے ملزم کی تلاش شروع کر دی ہے۔

22 اپریل کو سوات بریکوٹ کے علاقے دم پررائے میں بخت تاج نامی شخص نے گھریلو مسائل کی بنیاد پر اپنی بیوی کو قتل کردیا۔ پولیس نے اس کیس کی رپورٹ بھی درج کرلی ہے۔

جن چھ مبینہ قتل کے واقعات کے بارے میں یہاں ذکر کیا گیا ہے، یہ وہ کیسز ہیں جو پولیس میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں خواتین سے متلقہ معاملات کو تھانے اور عدالت میں لے جانے سے خصوصی طور پر گریز کیا جاتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ معاملہ یا تو گھر کے اندر ہی نمٹا دیا جائے یا پھر مقامی جرگے کے ذریعے سے معافی تلافی کر کے بات ختم کر دی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین کے خلاف جرائم میں کمی کی بجائے روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور اکثر اوقات لاتعداد کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

ہمارے ہاں ایک اور بنیادی مسئلہ ٹھوس اعداد و شمار کی کمی کا بھی ہے۔ خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم میں خصوصی طور پر غیرت کے نام پر قتل اور گھریلو تشدد جیسے جرائم کے ٹھوس اور مکمل اعداد وشمار موجود ہی نہیں اور جو اعداد وشمار موجود ہیں وہ صرف ان کیسز کے ہیں جو پولیس میں رپورٹ ہوتے ہیں، جو کہ اصل تعداد سے بہت کم ہے۔

یہاں پر ضرورت اس امر کی ہے کہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی وزارت اور ادارے ان اعداد و شمار کو نہ صرف ڈاکیومنٹ کریں بلکہ ان اعداد وشمار  اور حقائق کو رائے عامہ میں شعور و آگہی کے لیے بھی استعمال کریں۔ چونکہ اصل تعداد لوگوں کے سامنے ایک ٹھوس شکل میں سامنے نہیں آتی، لہذا ہمارے ہاں لوگ یہ رائے ہی مکمل طور پر رد کرتے آئے ہیں کہ ہمارے ہاں قابل تشویش حد تک خواتین کے خلاف جرائم نہ صرف موجود  ہیں بلکہ اس میں آئے روز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

سوشل میڈیا کی وجہ سے اب کم سے کم یہ فرق ضرور آیا ہے کہ خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم پر لوگوں میں بحث مباحثے ہوتے رہتے ہیں اور بہت سارے کیسز منظر عام پر بھیآاجاتے میں، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر خواتین کو اب تھوڑا بہت حوصلہ ملنے لگا ہے اور وہ اپنے حق کے لیےآواز اٹھانے کی ہمت کر رہی ہیں، لیکن جو خواتین اپنے حق کے لیےآواز اٹھاتی ہیں ان کو آج بھی وہ سپورٹ اور رہنمائی نہیں مل رہی جو ان کو ملنی چاہیے، اسی لیے بہت کم خواتین کو انصاف ملتا ہے۔

 خواتین کو بروقت مدد اس لیے نہیں مل رہی کہ ہمارے ہاں متعلقہ اداروں کی جانب سے ٹھوس اقدامات کی اب بھی بہت کمی ہے۔ شارٹ ٹرم مداخلت سے خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم اور خصوصی طور پر غیرت کے نام پر قتل جیسے جرائم کا خاتمہ ممکن نہیں ہے، لہذا اس سلسلے میں ٹھوس، بروقت اور موثر اقدامات کی ضرورت ہے ۔

اکثریتی لوگ اور خصوصاً خواتین کو غیرت کے نام پر قتل جیسے جرائم سے متعلقہ قوانین کے بارے میں بھی آگہی نہیں ہے اور اگر تھوڑی بہت آگہی ہو بھی جاتی ہے تو ان کے آس پاس کے علاقوں میں متعلقہ اداروں کی کمی ایک اور سوالیہ نشان ہے، کیونکہ بہت سارے ادارے صوبائی یا قومی دارالخلافوں میں دفاتر کھولے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے دوردراز اور  دیہی علاقوں کی خواتین ان اداروں کی سہولیات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتیں۔

بسا اوقات اگر کوئی خاتون انصاف اور مدد کے لیے ان اداروں تک رسائی کی کوشش کر بھی لیتی ہے تو ایسے میں ان خواتین کی معاشی طور پر غیر مستحکم صورت حال ان کو اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ ان اداروں تک رسائی حاصل کرسکیں، کیونکہ یہ خواتین سفری و دیگر ضروری اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتیں۔

ہمارے ہاں یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثریتی خواتین معاشی طور پر گھر کے افراد خصوصاً مردوں پر انحصار کرتی ہیں۔ جہاں ہر فیصلہ مرد کی مرضی پر ہوتا ہے۔ وہ چاہے تو مدد کرے اور نہ چاہے تو نہ کرے۔ قانونی حقوق تک رسائی کے حوالے سے اکثر اوقات یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ خواتین کو گھر سے بہت کم ہی سپورٹ ملتی ہے۔ ایسے میں خواتین کے کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے مالی معاونت کون کرے گا ؟ تاکہ وہ بروقت قانونی مدد حاصل کرسکے اور انصاف تک رسائی حاصل کرسکے۔ 

پاکستان میں گذشتہ کئی سالوں سے خواتین کے خلاف جرائم کے خاتمے اور ان کے تحفظ کو ممکن بنانے کے لیے بہت سارے قوانین بنائے گئے ہیں لیکن آج تک کبھی کسی ادارے نے اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش  نہیں کی کہ ان قوانین پر کس حد تک عمل درآمد کیا جاتا ہے اور اگر نہیں کیا جاتا تو ایسی کون سی مشکلات اور رکاوٹیں ہیں جس کے حل کے لیے باقاعدہ اقدامات کرنے کی ضروریات کا اندازہ لگایا جائے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ملک میں انسانی حقوق کی وزارت اور اداروں کو مل کر موجودہ قوانین کا جائزہ لینا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ ان تمام قوانین کے ہونے کے باوجود اگر انسانی حقوق کی پامالی آئے روز بڑھ رہی ہے تو آخر اس کی وجہ کیا ہے اور اس سلسلے میں کن کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ جب تک ان وجوہات کا ادراک کرکے ان کا سدباب نہیں کیا جائے گا۔انسانی حقوق کی پامالی کو کبھی بھی نہیں روکا جاسکتا۔

Monday, April 27, 2020

لاک ڈاؤن میں پھنسی خواتین مدد چاہتی ہیں

ہاں دنیا بھر کو گذشتہ برس سے کرونا (کورونا) نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ لوگوں کو آئے روز بظاہر نہ ختم ہونے والے چیلنجز کا سامنا ہے وہیں بڑھتی ہوئی سماجی اور صنفی نابرابری کے رجحانات میں اضافہ بھی کافی تشویش کا باعث ہے۔


راولپنڈی میں خواتین کی بڑی تعداد حکومت کے احساس پروگرام کے تحت امداد کے لیے جمع ہے - اے ایف پی

پوری دنیا میں خواتین پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے جنرل  سیکرٹری انتونیو گوئٹرس نے چند ہفتے پہلے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں عوام اور سرکاری اداروں کو اس مسئلے پر توجہ دینے کی گزارش کی تھی۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان میں خواتین  کے حقوق کی بحالی اور تحفظ کے لیے سرگرم ادارے بھی ان حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ممکنہ اقدامات کر رہے ہیں۔ وزارت انسانی حقوق، یو این ویمن، اور خواتین کے قومی کمیشن نے گذشتہ ہفتے ’پاکستان میں کرونا کے صنفی اثرات اور مضمرات‘ پر ایک پالیسی پیپر شائع کیا ہے جس میں اس تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ خواتین اور دوسرے نظر انداز طبقوں کی زندگیوں اور معاشیات پر عالمی وبا کے اثرات تشویشناک ہوسکتے ہیں لہذا اداروں اور حکومتوں کو پیشگی اقدامات کرنے ہوں گے۔

اس پالیسی پیپر میں خواتین اور بچیوں کو تعلیم، صحت، روزگار، صنفی تشدد سے متعلق ممکنہ درپیش مسائل کا احاطہ کیا گیا اور خطرات کا ذکر کیا گیا۔ چند تجاویز بھی مرتب کی گئی ہیں جس پر عمل کرتے ہوئے خواتین اور بچیوں کا تحفظ یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

یہاں ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہ پالیسی پیپر اپنی جگہ ایک بہترین دستاویز ہے لیکن جب تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوگا، اس  کی افادیت نہیں رہے گی۔ جب ہم عمل درآمد کی بات کرتے ہیں تو حکومتی اداروں میں سوشل ویلفیر اور ویمن رائٹس کا محکمہ وہ کلیدی ادارہ ہے جو کہ سماجی ٖفلاح و بہبود اور خواتین کے حقوق کا ذمہ دار ہے۔

لیکن بدقسمتی سے لاک ڈاؤن کے دوران اس اہم ادارے کو ضروری (ایزنشل) ادارہ قرار نہیں دیا گیا۔ اس وقت اس ادارے کے متحرک اور موثر کردار کی اشد ضرورت ہے کہ یہ نہ صرف آگے بڑھ کر خواتین کے بڑھتے ہوئے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کرے بلکہ جو ادارے خواتین کے مسائل کے حل کے لیے مینڈیٹ رکھتے ہیں ان کی سمت متعن کرے، ان کی رہنمائی کرے کہ کس جگہ، کس قسم کی مدد کی ضرورت ہے۔

  اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ گھریلو جسمانی تشدد اور دیگر مسائل سے تحفظ کے لیے موجودہ اداروں اور ان کی سہولیات کے حوالے سے معلومات کو حد درجہ عام کیا جائے۔ اس ضمن میں ٹی وی، ریڈیو اور سوشل میڈیا کے ہر ممکنہ پلیٹ فارم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس سے خواتین کو رہنمائی اور مدد حاصل کرنے میں معاونت حاصل ہوگی۔

 ہم سب کے علم میں ہے کہ پاکستان میں زیادہ تر خواتین غیررسمی اور کم معاوضے والے روزگاروں سے وابستہ ہیں۔ وہ کم آمدنی والے طبقے میں شمار ہوتی ہیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان خواتین کا سماجی تحفظ اور امداد دینے والے مراکز تک رسائی تقریباََ ختم ہوگئی ہے لہذا یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ امداد دینے والے لوگ اور ادارے ان خواتین تک رسائی ممکن بنائیں اور ان کی مالی اعانت کریں۔



 پاکستان میں لاک ڈاون کو تقریباََ ایک مہینہ ہونے کو ہے۔ لوگ گھروں میں محصور ہوگئے ہیں۔ بہت سارے لوگ دفتر کا کام گھر سے کر رہیں ہیں۔ یہاں پر بھی بیشتر اوقات خواتین کے لیے حالات نسبتاََ زیادہ دشوار ہیں کیونکہ خواتین کو نہ صرف اپنے دفتر کے معاملات گھر سے بیٹھ کر آن لائن نبھانے ہوتے ہیں بلکہ گھریلو ذمہ داریاں بھی نبھانی پڑتی ہیں۔ ان دوہری ذمہ داریوں کی وجہ سے خواتین کی ذہنی اور جسمانی صورت حال پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ایسی خواتین یہ مسائل مختلف پلیٹ فارمز پر اٹھا رہی ہیں تاکہ وہ ان کے حل کے بارے میں جان سکیں۔ لیکن اس حوالے سے ایسے آن لائن سہولتوں کی اب بھی بہت کمی ہے جو کہ اس مشکل حالات میں خواتین کو مفت اور بروقت معلومات دے سکیں۔ متعلقہ اداروں کو اس صورت حال میں آن لائن کونسلنگ کی سہولیات مہیا کرنے کے لیے جلد اقدامات کرنے چاہیے۔

تاہم اس سلسلے میں خاندان کے مرد افراد پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ گھریلو امور میں خواتین کا ہاتھ بٹائیں۔ گھر کے مرد بڑھ کر گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹانے کے علاوہ ان کو عزت و احترام دیں گے تو گھر میں موجود بچوں کی ذہن میں پدر شاہی رویے پنپنے کی بجائے ختم ہوجائیں گے۔ صنفی تفریق کی بنیاد، انفرادی رویوں سے لے کر گھر کی سطح پر اور پھر گھر سے معاشرے کی سطح پر فروغ پاتے ہیں۔

کرونا کی عالمی وبا کے نتیجے میں ہمیں ایک موقع ملا ہے کہ ہم زندگی کی دوڑ میں تھوڑا توقف کر لیں اور اپنے انفرادی اور اجتماعی معاملات کو ازسر نو ترتیب دینے کی ایک کوشش کریں۔ اس دوران ہر اس رویے اور اقدام کو درست کرنے کی کوشش کریں جس سے کسی بھی انسان کو اس کے جنس، عقیدے، سوچ کی بنیاد پر تفریق یا نفرت انگیز عمل سے گزرنا پڑے۔


 آج کی اس مشکل صورت حال میں پاکستان کی ہر عورت مرد کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور اپنا کردار نبھا رہی ہے۔ ایسے میں ہر عورت کا حق ہے کہ وہ برابری کے بنیاد پر ترقی اور سہولیات سے استفادہ حاصل کرے اور ایک بھر پور زندگی گزارے۔

Thursday, March 5, 2020

میرا جسم، میری مرضی پر اعتراض کیوں؟

میرا جسم، میری مرضی کا نعرہ جو کہ پچھلے سال ہونے والے عورت مارچ کے بعد سے ہر طرف زیر بحث ہے۔ جتنے بحث مباحثے اس حوالے سے ہوئے اس کا لبِ لباب نکالنے سے معلوم ہوتا ہے جیسے اعتراض میرے جسم پر نہیں، میری مرضی پر ہے۔ یہی تو ہمیشہ ہوتا آیا ہے، مسئلہ سارا اس مرضی کا ہے اور ہمارا معاشرہ آج بھی یہ چاہتا ہے کہ چاہے عورت کا جسم ہو، تعلیم کا حق ہو، نوکری کا حق ہو، پسند کی شادی کرنے کا حق ہو، کسی بات سے انکار کا حق ہو، اس سب میں مرضی مرد کی چلنی ہے۔ جہاں عورت نے اپنی مرضی چاہی، اس عورت کو نافرمان، بدچلن اور بری عورت قرار دیا۔ 

اب وقت آگیا ہے کہ ہم عورتوں  کی مرضی چلے۔ ہم اپنے حق کے لیے آواز اٹھائیں ۔سوشل میڈیا/ ٹوئٹر)

آخر اتنا خوف کیوں ہماری مرضی سے؟ یا شاید اس خوف کی وجہ یہ تو نہیں کہ آپ کو مرضی کا مطلب سمجھ میں نہیں آتا؟ اس مرضی کا مطلب ہرگز وہ نہیں جو آپ سمجھتے ہیں، کہ اگر کسی لڑکی کو شادی کے لیے پوچھا اور اس نے انکار کر دیا تو آپ کی مرضی ہے کہ آپ اس پر تیزاب پھینکیں۔ اگر کو ئی لڑکی پڑھنا لکھنا چاہے یا نوکری کرنا چاہے  تو آپ نے اسے مار دیا اور اسے اپنا گھریلو ذاتی  معاملہ قرار دے کر صاف بچ گئے۔ کیونکہ مرضی تو صرف آپ کی چلتی ہے۔ بیوی نے کھانا صحیح نہیں بنایا اور آپ نے تشدد کیا۔ بیٹیاں پیدا کرنے پر عورت کا جینا حرام کر دیا کیونکہ قدر تو صرف اولاد نرینہ کی ہے۔ 

بھائی یا باپ تیش میں آیا اور کسی کو مار دیا۔ اب اسے بچانے کے لیے خاندان سر توڑ کوشسشیں کرے گی کہ اس کی زندگی بچ جائے لہذا یہاں پھر مرد حضرات کی مرضی کام آئے گی اور وہ یہ فیصلہ کریں گے کہ گھر میں موجود کسی بچی یا خاتون کو ’سورہ‘ میں دے دیا جائے اور دشمنی ختم کر دی جائے کیونکہ اس بچی یا خاتون کی کوئی مرضی تو ہے نہیں۔ اس کے بعد چاہے اس کی زندگی کا ہر دن قیامت کا دن ہو کیونکہ اس کی شادی نہیں کی جاتی اسے ایک نعم البدل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ پھر اسے کے شوہر اور اس کے گھر والوں کی مرضی کہ اس دشمنی کے پاداش میں روز اسے پھانسی سنائیں یا اس کا گلہ گھونٹے، مرضی اس کی نہیں چلے گی۔ 

دنیا جہان میں جہاں جہاں جنگ ہوئی، ہم سب کو اس امر کا بخوبی پتہ ہے کہ مرد صرف قتل ہوتے ہیں لیکن عورت قتل سے زیادہ ریپ ہوتی ہے۔ ریپ کو جنگوں میں ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے، کیونکہ عورت کے جسم پر اس کی مرضی نہیں، لہذا مرد آپس میں دشمنیاں اور جنگوں میں ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے اور بے عزت کرنے کے لیے ایک دوسرے کی عورتوں کے جسموں کو ظلم کا نشانے بناتے رہتے ہے اور دشمنی کی آگ بجھائی جاتی ہے۔

کچھ مرد حضرات نے یہ بھی کہا کہ یہ عورتیں اپنا جسم اور اپنی مرضی کا یہ مطلب لیتی ہیں کہ یہ طوائف بن جائیں سب۔ میرا جسم، میری مرضی کا ہرگز یہ مطلب نہیں لیکن آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ عورت طوائف کیوں بنتی ہے؟

بھائی ، جس معا شرے میں عورت کی تعلیم پر پابندی ہے۔ عورت کی تعلیم کے لیے ادارے نہ ہونے کے برابر ہوں، مناسب ملازمتیں نہ ہوں، وہاں عورت طوائف نہیں بنے گی تو کیا کرے گی؟ لیکن سوال تو یہ بنتا ہے کہ طوائف کے پاس جاتا کون ہے؟ مرد۔ وہ مرد جس کی مرضی ہے، جہاں جائے، جو کرے، کوئی مائی کا لال مرد کی مرضی پر سوال نہیں اٹھا سکتا۔

اسی مرد کی مرضی میں آتا ہے تو کم سن اور معصوم بچے بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر بےدردی سے مار دے گا کیونکہ اس کی مرضی ہے۔

اپنے ارگرد نظر دوڑائیں اور مرد کی مرضی کی ایسی بہت سی مثالیں آپ کو نظر آئیں گی جو روز انسانیت کا جنازہ نکالتی ہوں گی لیکن چونکہ ہمارے معاشرے میں کبھی مرد کی مرضی پر سوال نہیں اٹھایا گیا اس لیے ہمیں یہ کبھی محسوس ہی نہیں ہوا کہ اس مرضی پر سوال اٹھائیں اور اس کو روکنے کی بات کریں۔ عورت جس مرضی کی بات کر رہی ہے وہ ہرگز وہ مرضی نہیں جو آج تک ایک مرد کرتا اور سمجھتا آ رہا ہے۔

ایک متوازن معاشرے کی بنیاد ہی ایک ترقی یافتہ، پر امن اور خوشحال معاشرے کی ضامن ہے۔اے ایف پی)

اب وقت آگیا ہے کہ ہم عورتوں  کی مرضی چلے۔ ہم اپنے حق کے لیے آواز اٹھائیں۔ ہمارے جسم ہماری ملکیت ہیں۔ کسی مرد یا کسی انسان کو ہمارے جسم پر کوئی حق اور سروکار نہ ہو۔ ہم بھی ترقی کی منازل طے کریں۔ اپنی مرضی سے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کریں۔ 

ہزار مشکلات اور جانفشانی کے بعد آج کی عورت جس طرح سے دنیا کے ہر کونے اور ہر شعبے میں کامیابی کی منازل طے کر رہی ہے، اس سے تو صاف ظاہر ہے کہ عورت کو اپنی مرضی کا مکمل حق حاصل ہونا چاہیے۔ اپنی مرضی اور خوشی سے جینا ہر انسان کا حق ہے لیکن پھر صرف ہم پر اعتراض کیوں؟

ہمارے معاشرے میں کنفرنٹیشن کی وبا ہر طرف پھیلی ہوئی ہے۔ کنفرنٹیشن سے مزید تنازعے اور مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ لہذا ہم سب کو تھوڑے توقف سے سوچنے اور سمجھنے کے بعد اپنی بات کو مدلل طریقے سے آگے رکھنا چاہیے اور ترجیح اصلاح ہو۔ نہ کہ اپنی ذاتی انا اور جھوٹے وقار کی پرستش ہو۔

ایک متوازن معاشرے کی بنیاد ہی ایک ترقی یافتہ، پر امن اور خوشحال معاشرے کی ضامن ہے۔ میری یہ تحریر پڑھنے کے بعد گالی کا خیال دل میں آئے تو یہ سوچ لیجیے گا کہ آپ میری بات سمجھے نہیں لہذا توقف سے کام لیں اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ میری مرضی سے آپ کو کوئی خطرہ نہیں لہذا مطمئن رہیں۔

خود بھی جییں اور دوسرں کو بھی  جینے دیں۔

Friday, January 10, 2020

صنفی امتیاز کا خاتمہ: کیا ایک صدی انتظار کرنا ہوگا؟

صنفی تفریق پر ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ رپورٹ 2019 کے اواخر میں منظر عام پر آئی اور ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی پاکستان 
کا نمبر سب سے آخر درجوں میں آیا۔
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ یہ رپورٹ پاکستان میں کوئی خاص توجہ نہ حاصل کر سکی  ۔سرورق  جینڈر گیپ رپورٹ

گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ میں دنیا کے 153 ممالک میں ہمارا نمبر 151 ہے۔ ہماری کارکردگی بس اتنی رہی کہ اس دفعہ ہم اس انڈیکس میں یمن اور عراق سے آگے رہے۔ اس پر دکھی ہونے کا مقام ہے کیونکہ اس دوڑ میں 150 ممالک اب بھی ہم سے آگے ہیں۔ ہمیں آج بھی، بس اسی پر گزارا کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے کہ چلو دو ممالک سے تو اب بھی ہم آگے ہیں۔

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ یہ رپورٹ پاکستان میں کوئی خاص توجہ نہ حاصل کر سکی کیونکہ ہمیشہ کی طرح آج بھی خواتین کے مسائل کا حل یا ان پر توجہ کا فقدان ہے۔ بہانہ یہ کیا جاتا ہے کہ ہم اس وقت کئی دیگر اہم اور سنگین مسائل کا شکار ہیں لہذا ابھی مناسب وقت نہیں آیا کہ خواتین کے مسائل پر توجہ دی جائے۔

یہ دلیل آج تک میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ مناسب وقت آخر کب آئے گا۔ بات جب بھی عورتوں کے حقوق اور مسائل کے حل کی ہو تو ہم لوگوں کے رویے سرد پڑ جاتے ہیں اور کچھ کہیں گے بھی تو کہیں گے ’دنیا میں سارے مسئلے ختم ہوگئے ہیں جو اب ہم عورتوں کے مسائل پر بات کریں گے۔‘ اس کا کیا مطلب ہے، کہ جیسے خواتین اس دنیا کا کوئی اہم حصہ نہیں ہیں۔

ایسے میں جب جینڈر گیپ جیسی رپورٹس سامنے آتی ہیں اور خواتین کے معیار زندگی کے جائزے کے بعد اپنا تجزیہ منظر عام پر لاتے ہیں تو ہونا تو یہ چاہیے کہ ہماری حکومت اور متعلقہ ادارے سنجیدگی سے ان تجزیوں پر غور کریں اور ایسے اقدامات کریں جن سے آگے چل کر خواتین کا معیار زندگی بہتر ہو سکے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ دنیا میں ہماری امیج بھی بہتر ہو سکے گی۔

جینڈر گیپ کی رپورٹ ہر خاص و عام کی رسائی کے لیے انٹرنیٹ پر موجود ہے لیکن شاید یہ رپورٹ بہت سارے لوگوں کی نظر سے نہیں گزری ہوگی۔ اس رپورٹ کے مطابق خواتین کے بہتر معیار زندگی اور امتیاز کے خاتمےکا اندازہ تعلیم، صحت، روزگار کے مواقع اور سیاسی ترقی جیسے اہم شعبوں میں ان کی حالت زار کا جائزہ لے کر کیا جاتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خواتین کی حالت  زار قطعاََ تسلی بخش نہیں ہے بلکہ تشویش ناک ہے لہذا اب ہمیں اپنے سوچ کے زاویے بدلنے ہوں گے۔

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بنگلہ دیش جیسے ممالک بھی پاکستان کے مقابلے میں خواتین کے حوالے سے تیزی کے ساتھ بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان جیسے ممالک میں خواتین کے ساتھ امیتازی رویہ ایک عام بات بن گئی ہے اور یہی امتیازی رویہ ہر شعبے میں خواتین کے لیے مشکلات کا باعث بنتا آ رہا ہے۔ یہ رویہ اس وقت تشویش ناک بن جاتا ہے جب یہ تعلیم، صحت، روزگار اور سیاست میں خواتین کے لیے یکساں مواقع پیدا کرنے میں رکاوٹ بنے۔

تعلیم کا شعبہ لے لیں تو آج بھی پاکستان میں 32 فیصد سکول جانے کی عمر کی بچیاں سکولوں سے باہر ہیں۔ پیشتر دور دراز اور دیہی علاقوں میں لڑکیوں کے سکولز نہیں ہیں۔ اور اکثر سکولز میں صاف پانی، چار دیواری اور واش رومز کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ معیاری تعلیم کا حصول تو ایک خواب ہی لگتا ہے۔

دیہی اور دوردراز کے علاقوں میں لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان سارے مسائل کے حل کے لیے حکومت وقت کو تعلیم کے شعبے کو توجہ دیتے ہوئے، مناسب وسائل مہیا کرنے ہوں گے اور فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ آج کے دور میں تعلیم کی اہمیت سے کون انکار کر سکتا ہے۔

تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت کی صورت حال بھی انتہائی غیرتسلی بخش ہے۔ پاکستان کے بیشتر علاقوں میں خواتین مجبوری کے تحت مرد ڈاکٹرز یا ڈسپنسرز سے علاج کرواتی ہیں۔ جب بچیاں پڑھیں گی لکھیں گی نہیں تو ڈاکٹر کیسے بنیں گی؟ ہم آج تک فرسودہ روایات اور سوچ کے حامل رویوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بہتری تو درکنار، ہم مزید پیچھے جا رہے ہیں۔

روزگار کے مواقعوں کا اگر جائزہ لیں تو خواتین کے لیے کوئی خاص بہتری پیدا نہیں ہوئی۔ خواتین کے پاس سرمائے کی کمی سے لے کر، مارکیٹ تک رسائی جیسی مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری طرف دنیا انفارمیشن ٹیکنالوجی میں حد درجہ تیزی سے ترقی کر رہی ہے جبکہ ہماری خواتین کمپیوٹر لٹریسی میں ابھی بہت پیچھے ہیں۔ جہاں روزگار میں آج کل ٹیکنالوجی کا استعمال بدرجہ اتم بڑھ رہا ہے وہاں مجھے خدشہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں خواتین کہیں بہت ہی پیچھے نہ رہ جائیں۔ حکومت وقت کو خواتین کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر زور دینا ہوگا۔ خواتین میں فنانشل لٹریسی عام کرنے کے لیے خصوصی طور پر اقدامات کرنے ہوں گے، تاکہ خواتین بھی بہتر روزگار کے مواقعوں سے مستفید ہوسکیں۔

خواتین کی ترقی اورصنفی امتیاز کے خاتمے کے لیے سیاسی عمل میں خواتین کی بھرپور شرکت کے لیے سیاسی جماعتوں اور حکومت کے متعلقہ اداروں کو سنجیدگی سے اقدامات کرنے ہوں گے۔ حالیہ دور میں خواتین کو جنرل سیٹس میں پانچ فیصد کوٹہ اور انتخابات کے دوران کم سے کم 10 فیصد بذریعہ ووٹ رائے دہی کے لازمی قرار دینے جیسے اقدامات سے خواتین کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ اب یہ سیاسی جماعتوں اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ خواتین کو سیاست میں بھرپور شرکت کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

ورلڈ اکنامک فورم کی حالیہ رپورٹ کے مطابق خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے مکمل خاتمے اور متوازی ترقی کے لیے آج کی دنیا کو تقریباََ 100 سال مزید درکار ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ اس وقت بہت سے ممالک اور اہم بین الاقومی اداروں میں خواتین اہم ترین عہدوں پر فائز ہو رہی ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں مجموعی طور پر صنفی امتیاز میں کمی میں کوئی خاص فرق نہیں آیا۔ اس حوالے سے ورلڈ اکنامک فورم کے سربراہ کلاز شواب کا کہنا ہے کہ جس رفتار سے ہم دنیا سے امتیازی سلوک کا خاتمہ کر رہیں ہیں اس حساب سے لگتا ہے کہ ہمیں مزید ایک صدی کا عرصہ درکار ہوگا، جو کہ آج کی گلوبلائزڈ دنیا میں کسی کو قابل قبول نہیں، خصوصی طور پر نوجوان نسل کو جس کے خیالات تیزی سے بدل رہیں ہیں اور وہ برابری کی دنیا پر یقین رکھتے ہیں۔

میرا اپنا تجزیہ یہ ہے کہ صنفی امتیاز کے خاتمے کے لیے سیاسی مرضی کی اشد ضرورت ہے۔ جس دن عوام اور حکومت نے صنفی امتیاز کو ایک سنجیدہ مسئلہ سمجھتے ہوئے سنجیدہ سوچ، بروقت اور موثر اقدامات کی ٹھان لی، تب دنوں، ہفتوں، مہینوں اور سالوں کے حساب سے یہ مسئلہ مکمل طور پر حل ہوجائے گا۔

Friday, December 13, 2019

تشدد کا پھیلتا ہوا جان لیوا کینسر کون روکے گا؟

یہ حقیقت ہے کہ تشدد کا رویہ اور رجحان اتنا ہی پرانا ہے جتنی کرہ ارض پر انسانی تاریخ۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ جہان انسان نے علم و عقل کے لامتناہی سمندر عبور کیے، نت نئی ایجادات اور سہولیات کو فروغ دیا وہاں انسان تشدد، نفرت اور امتیاز جیسے منفی رویوں پر آج تک قابو نہیں پا سکا۔
(اے ایف پی)
بلکہ حقیقت اس کے مکمل برعکس بلکہ انتہائی تلخ ہے۔ تشدد کے واقعات میں نہ صرف آئے روز اضافہ ہو رہا ہے بلکہ اب تو ایسا لگتا ہے جیسے تشدد ہماری زندگی کا معمول بن گیا ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ لوگ تشدد کے واقعات پر بات کرنے لگے ہیں اور اس کی مذمت بھی کرتے ہیں اور تشدد میں ملوث لوگوں کو سخت سے سخت سزا دینے پر بھی آواز بلند کرتے نظر آتے ہیں۔ تاہم تشدد کا مسئلہ اور ہمارے معاشرے پر اس کے اثرات بہت پیچیدہ اور قابل تشویش ہیں۔ اس کے حل کے لیے انفرادی آوازوں کے ساتھ ساتھ اجتماعی اور دور رس اقدامات کی بھی شدید ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا اور تشدد کا یہ ماحول اور رویہ اس طرح پروان چڑھتاگیا تو خدانخواستہ کل ہم میں سے کوئی بھی اس کے اثرات سے نہیں بچ سکے گا۔

 اگر یہاں تک آپ مجھ سے متفق ہیں کہ تشدد کے اس بڑھتے ہوئے مائنڈ سیٹ کو بدلنے کے لیے ہم سب کو مل کر اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تب ہی شاید ایک دن ہمارا یہ معاشرہ ہمارے لیے، ہماری خواتین، بچوں، مردوں، خواجہ سراؤں، مختصراً سب کے لیے ایک محفوظ معاشرہ بن جائےگا جہاں پر ہم بےخوف ایک خوشگوار اور صحت مند زندگی گزار سکیں گے۔ اس کے لیے اب کرنا کیا ہے؟ آئیں اس پر بات کرتے ہیں۔ اس کے لیے سب سے پہلا قدم ہمارا یہ ہوگا کہ ہم تشدد کے شکار ہونے والے کا ساتھ دیں نہ کہ الٹا ہم تشدد کے شکار ہونے والے کو اپنی تنقید کا نشانہ بنائیں۔

اس طرح ہم تشدد کرنے والے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ایسا ہم اکثر اوقات تب کرتی ہیں جب تشدد کا شکار ہونے والی کوئی عورت یا لڑکی ہو۔ کوئی اس کے کپڑوں کو الزام دے گا تو کوئی اس کے کردار پر سوال اٹھائے گا۔ حالانکہ تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ آئے روز ہمارے علم میں ایسے تشدد کے واقعات بھی آتے ہیں جن میں عمر اور جنس کے فرق سے بالاتر معصوم بچے بچیوں کو پہلے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد میں وحشانہ طریقے سے قتل کر کے کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا۔ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ ہم تشدد کرنے والے کا ہاتھ شروع سے مضبوط کرتے آئے ہیں۔

اب ہم سب کو بدلنا ہوگا اور تشدد کا شکار ہونے والے کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ لیکن تشدد کا رویہ جس بری اور گہرے طریقے سے ہماری زندگیوں کا حصہ بن گیا ہے اس کے لیے آپ کو اور مجھے اب ایک قدم اور بڑھ کر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دینی ہوں گی کیونکہ تشدد کے واقعات پر صرف فیس بک، ٹوئٹر پر ایک دو پوسٹ یا ایک دو کالم لکھنے سے یہ مسئلہ ختم نہیں ہو گا۔ آپ کا اور میرا فرض ہے کہ تشدد کی روک تھام کے لیے قوانین سے نہ صرف خود کو آگاہ کریں بلکہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی آگاہ کریں۔

ہمارے ملک میں اکثر لوگوں کا قوانین  کے بارے میں علم و آگہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس میں ایک رکاوٹ یہ بھی ہے کہ قوانین زیادہ تر انگریزی زبان میں ہیں تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قانون کی زبان ہوتی بھی مشکل اور تکنیکی ہے اور عام انسان کی سمجھ سے تقریباَ بالاتر ہی ہوتی ہے۔ لیکن اس مسئلے کا بھی ایک حل ہے۔ ہمارے ملک اور صوبوں کی سطح پر بہت سارے حکومتی اور غیرحکومتی ادارے موجود ہیں جن سے ان قوانین کو سمجھنے اور آگے پھیلانے میں مدد لی جا سکتی ہے۔ ان اداروں میں سرفہرست وزارت انسانی حقوق ہے جو کہ آج کل بہت سرگرم عمل ہے۔

اب کوئی بھی پاکستانی کسی بھی حقوق انسانی کی خلاف ورزی کی صورت میں وزارت کی ویب سائٹ پر جا کر اپنی شکایت درج کروا سکتا ہے یا ان کے قومی کال سینٹر پر براہ راست فون کر سکتا ہے۔ چند دیگر اداروں میں قومی سطح پر نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹیس آف ویمن اور صوبائی سطح پر پچھلے کئی سالوں سے صوبائی کمیشن اور چائلڈ رائٹس کمیشن موجود ہیں۔ ان اداروں کے بارے معلومات ان کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے باآسانی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ کسی بھی حقوق انسانی کی خلاف ورزی اور تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے ان اداروں سے نہ صرف رابطے کو مضبوط بنائیں بلکہ رابطے میں رہنے سے ہم عوام ان اداروں کی جوابدہی کو بھی ممکن بنا سکتے ہیں۔

 یہ ادارے ہماری ملکیت ہیں اور ہمارے مسائل کے حل کے لیے بنائے گئے ہیں لیکن ان تک اپنی آواز پہنچانا ہمارا فرض ہے ورنہ قدرت کا قانون تو یہ ہے کہ ماں بھی بچے کو دودھ پلانے کے لیے تب تک متوجہ نہیں ہوتی جب تک بچہ شور نہ مچائے۔

تشدد کے اس بڑھتے ہوئے ناسور کو ہم صرف باتیں کرنے اور سوشل میڈیا پوسٹ سے کبھی بھی ختم نہیں کر سکتے بلکہ اس کے لیے اپنے آپ کو اور اپنے آس پاس رہنے والے لوگوں میں تشدد کی روک تھام کے حوالے سے موجود قوانین اور اداروں کے کردار کے حوالے سے آگہی اور معلومات کا پرچار کرنا ہوگا۔ یہی دراصل ایک ذمہ دار اور باشعور انسان کی پہچان ہے۔ آئیں عہد کریں اور مل کر تشدد کا خاتمہ کریں۔

Sunday, December 1, 2019

How Women in Pakistan are creating Political Change – TED Talk by Shad Begum

How Women in Pakistan are creating Political Change – Shad Begum

Shad Begum, Giving her TED talk at Palm Spring, USA 


00:05
I'm here to tell you how change is happening at a local level in Pakistan because women are finding their place in the political process. 
00:16
I want to take you all on a journey to the place I was raised, northwest Pakistan, called Dir. Dir was founded in the 17th century. It was a princely state until its merger with Pakistan in 1969. Our prince, Nawab Shah Jahan, reserved the right to wear white, the color of honor, but only for himself. He didn't believe in educating his people. And at the time of my birth in 1979, only five percent of boys and one percent of girls received any schooling at all. I was one among that one percent. 
01:04
Growing up, I was very close to my father. He is a pharmacy doctor, and he sent me to school. Every day, I would go to his clinic when my lessons finished. He's a wonderful man and a well-respected community leader. He was leading a welfare organization, and I would go with him to the social and political gatherings to listen and talk to the local men about our social and economic problems. 
01:36
However, when I was 16, my father asked me to stop coming with him to the public gatherings. Now, I was a young woman, and my place was in the home. I was very upset. But most of my family members, they were happy with this decision. It was very difficult for me to sit back in the home and not be involved. 
02:06
It took two years that finally my family agreed that my father could reconnect me with women and girls, so they could share their problems, and together we could resolve them. So, with his blessings, I started to reconnect with women and girls so we could resolve their problems together. 
02:29
When women show up, they bring their realities and views with them. And yet, I have found all too often, women underestimate their own strength, their potential, and their self-respect. However, while connecting with these women and girls, it became very clear to me that if there was to be any hope to create a better life for these women and girls and their families, we must stand up for our own rights -- and not wait for someone else to come and help us. 
03:10
So I took a huge leap of faith and founded my own organization in '94 to create our very own platform for women empowerment. I engaged many women and girls to work with me. It was hard. Many of the women working with me had to leave once they got married because their husbands wouldn't let them work. One colleague of mine was given away by her family to make amends for a crime her brother had committed. I couldn't help her. And I felt so helpless at that time. But it made me more determined to continue my struggle. I saw many practices like these, where these women suffered silently, bearing this brutality. But when I see a woman struggling to change her situation instead of giving up, it motivates me. 
04:18
So I ran for a public office as an independent candidate in Lower Dir in the local elections in 2001. Despite all the challenges and hurdles, I faced throughout this process, I won. 
04:35
(Applause) 
04:41
And I served in the public office for six years. But unfortunately, we women, elected women, we were not allowed to sit in the council together with all the members and to take part in the proceedings. We had to sit in a separate, ladies-only room, not even aware of what was happening in the council. Men told me that, "You women, elected women members, should buy sewing machines for women." When I knew what they needed the most was access to clean drinking water. So I did everything I could do to prioritize the real challenges these women faced. I set up five hand pumps in the two dried up wells in my locality. Well, we got them working again. Before long, we made water accessible to over 5,000 families. We proved that anything the men could do, so could we women. I built alliances with other elected women members, and last year, we women were allowed to sit together with all the members in the council. 
06:07
(Applause) 
06:15
And to take part in the legislation and planning and budgeting, in all the decisions. I saw there is strength in numbers. You know yourselves. Lack of representation means no one is fighting for you. Pakistan is -- We're 8,000 miles away from where I'm here with you today. But I hope what I'm about to tell you will resonate with you, though we have this big distance in miles and in our cultures. 
06:56
When women show up, they bring the realities and hopes of half a population with them. In 2007, we saw the rise of the Taliban in Swat, Dir, and nearby districts. It was horrifying. The Taliban killed innocent people. Almost every day, people collected the dead bodies of their loved ones from the streets. Most of the social and political leaders struggling and working for the betterment of their communities were threatened and targeted. Even I had to leave, leaving my children behind with my in-laws. I closed my office in Dir and relocated to Peshawar, the capital of my province. I was in trauma, kept thinking what to do next. And most of the family members and friends were suggesting, "Shad, stop working. The threat is very serious." But I persisted. 
08:17
In 2009, we experienced a historic influx of internally displaced persons, from Swat, Dir, and other nearby districts. I started visiting the camps almost every day until the internally displaced persons started to go back to their place of origin. I established four mother-child health care units, especially to take care of over 10,000 women and children nearby the camps. But you know, during all these visits, I observed that there was very little attention towards women's needs. And I was looking for what is the reason behind it. And I found it was because of the underrepresentation of women in both social and political platforms, in our society as a whole. And that was the time when I realized that I need to narrow down my focus on building and strengthening women's political leadership to increase their political representation, so they would have their own voice in their future. 
09:30
So we started training around 300 potential women and youth for the upcoming local elections in 2015. And you know what? Fifty percent of them won. 
09:43
(Applause) 
09:51
And they are now sitting in the councils, taking part actively in the legislation, planning, and budgeting. Most of them are now investing their funds in women's health, education, skill development, and safe drinking water. All these elected women now share, discuss, and resolve their problems together. 
10:17
Let me tell you about two of the women I have been working with: Saira Shams. You can see, this young lady, age 26, she ran for a public office in 2015 in Lower Dir, and she won. She completed two of the community infrastructure schemes. You know, women, community infrastructure schemes ... Some people think this is men's job. But no, this is women's job, too, we can do it. And she also fixed two of the roads leading towards girls' schools, knowing that without access to these schools, they are useless to the girls of Dir. 
11:03
And another young woman is Asma Gul. She is a very active member of the young leaders' forum we established. She was unable to run for the public office, so she has become the first female journalist in our region. She speaks and writes for women's and girls' issues and their rights. Saira and Asma, they are the living examples of the importance of inclusion and representation. 
11:37
Let me tell you this, too. In the 2013 general elections in Pakistan and the local elections in 2015, there were less than 100 women voters in Dir. But you know what? I'm proud to tell you that this year, during the general elections, there were 93,000 women voters in Dir. 
12:00
(Applause) 
12:08
So our struggle is far from over. But this shift is historic. And a sign that women are standing up, showing up and making it absolutely clear that we all must invest in building women's leadership. In Pakistan and here in the United States, and everywhere in the world, this means women in politics, women in business and women in positions of power making important decisions. 
12:47
It took me 23 years to get here. But I don't want any girl or any woman to take 23 years of her life to make herself heard. I have had some dark days. But I have spent every waking moment of my life working for the right of every woman to live her full potential. 
13:14
Imagine with me a world where thousands of us stand up and they support other young women together, creating opportunities and choices that benefit all. And that, my friends, can change the world. 
13:36
Thank you. 
13:37
(Applause) 

کرونا بھی غیرت کے نام پر قتل نہ روک سکا۔

پچھلے کئی مہینوں سے دنیا میں زندگی کے تقریباً تمام تر معمولات بندش کا شکار ہیں۔ جس کی وجہ سے لوگوں کو بہت سارے مسائل اور مشکلات کا سامنا ہ...